مظفرنگر، 6؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) مودی سرکار کے منظور کردہ تینوں زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کسانوں نے اتوار کو مظفر نگر میں تاریخ رقم کردی۔ یہاں منعقد ہونے والی مہا پنچایت کسانوں کی اب تک کی سب سے بڑی مہا پنچایت ثابت ہوئی جس میں اکٹھا ہونے والے جم غفیر نے بی جےپی کے ہوش اڑادیئے۔ مہا پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے کسان لیڈروں نے وزیراعظم مودی اور وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ دونوں کو للکارا اور ان کی حکومتوں کو اکھاڑ پھینکنے کاپختہ عزم کیا۔
لاکھوں کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کسان تنظیموں نے زرعی قوانین کی واپسی کے ساتھ ساتھ ملک اور آئین بچانے کی بھی پر زور اپیل کی۔ مظفر نگر سے ہی تعلق رکھنے والے کسان مورچہ کے لیڈر راکیش ٹکیت نے شہر کےجی آئی سی میدان میں منعقد کسانوں کی مہاپنچایت میں کہا کہ’’ اس وقت ملک اور آئین خطرے میں ہے۔‘‘ انھوں نے وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کواشاروں اشاروں میں نشانہ بناتےہوئے کہا کہ یہ دونوں ہی باہری لوگ ہیں،ان سے ملک اور دستور کو بچانا ہے۔یہ لوگ توڑنے کا کام کریں گے،فساد کروائیں گے،لیکن ہم جوڑنے کا کام کریں۔ آنجہانی مہندر سنگھ ٹکیت کے دور میں اس ملک میں اللہ اکبر اور ہر ہر مہادیوکے نعرے ایک ساتھ بلند ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے راکیش ٹکیت نے بھی اسٹیج سے یہ دونوں نعرے ایک ساتھ لگوائے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیغام دیا۔
کسان مہا پنچایت کے دوران کسانوں سے واضح طورپر اپیل کی گئی کہ وہ ۲۰۲۲ء کے اسمبلی الیکشن میں یوگی سرکار کو اکھاڑ پھنکیں۔ راکیش ٹکیت نے تینوں زرعی قوانین کی منسوخی اور ایم ایس پی کی قانونی ضمانت کے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ’’ کسان دہلی- یوپی بارڈر سے نہیں ہٹے گا،خواہ جان ہی چلی جائے۔ ہمیں فصلوں پر ایم ایس پی کی ضمانت چاہیے،وزیر اعظم نے ۲۰۲۲ء میں ہر کسان کی آمدنی دگنی کرنے کا اعلان کیاتھا ، ۲؍ ماہ رہ گئے ہیں مگر کسانوں کی آمدنی نہیں بڑھی۔‘‘ انہوں نے بی جےپی کو للکاراتے ہوئے کہا کہ ’’ہم پورے ملک کو اس جھوٹ سے آگاہ کریں گے۔یہ آندولن پورے ملک میں ہوگا۔‘‘ انہوں نے اعلان کیا کہ ’’سرکارکو ووٹ کی چوٹ‘‘ دینے کی ضرورت ہے۔ ٹکیت کے مطابق ’’فصلوں کے دام نہیں تو ووٹ نہیں‘‘ کا نعرہ بلند کرنا ہوگا۔
راکیش ٹکیت نے کہا کیمرہ اور قلم پر بندوق کا پہرہ بٹھادیاگیا ہے۔اب کسی قلم کار میں کسانوں کے حق میں لکھنے کی ہمت ہی نہیں رہ گئی ہے۔ انھوں نے مزید کہاکہ یہ باہر ی لوگ سڑک بیچ رہے ہیں،سب بک رہا ہے،بھارت بکاؤ ہے، کھیتی خطرہ میں ہے،ریلوے کا نجی کرن ہورہا ہے، بندرگاہیں فروخت کردی گئی ہیں ،یہی ان کی پالیسی ہے ،نگر پالیکا اور نگم کا کام ٹھیکہ پر کرایا جارہا ہے۔
کسان لیڈروں نے کسانوں کے کلیدی مطالبات کے ساتھ ہی ساتھ سلگتے ہوئے موضوعات کو بھی چھیڑا۔ سرکاری املاک کو گروی رکھ کر ۶؍ لاکھ کروڑ روپے اکھٹا کرنے کے حکومت کے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے راکیش ٹکیت نے کہا کہ ’’ ملک برائے فروخت‘‘کا بورڈ لگادیاگیاہے۔ انھوں نے کسانوںکو للکارتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ٹریکٹر ٹرالی لے کر تیار رہیں،انھیں کبھی بھی آواز دی جاسکتی ہے۔حاجی غلام محمد جولا جنہیں راکیش ٹکیت نےبطور خاص اپنےقریب بٹھایاتھا، نے کہاکہ’’ ہم سب ایک ہیں ،ایک کسان دوسرے کسان کا معاون ہے۔‘‘انھوں نے کہاکہ کچھ برس پہلے ہماری ایکتا کو توڑنے کی کوشش کی گئی تھی مگر اب ہم پھر ایک ہوگئے ہیں۔